بنگلورو،2؍مارچ(ایس او نیوز) بنگلور کے صحت افسروں نے ان افواہوں کی نفی کی ہے کہ شہر میں بندر بخار کی وبا پھیل رہی ہے، واضح رہے کہ مغربی گھاٹ کے علاقوں میں پایا جانے والا کیاسنور جنگل مرض کے بنگلور شہر میں پھیلنے سے متعلق خوف اس وقت پیدا ہو گیا تھا جب فروری کی 3 تاریخ کو دوما سندرا میں دو بندروں کے مردہ جسم پائے گئے تھے۔بنگلور شہری ضلع کے ضلعی نگران افسر ڈاکٹر سنندا ریڈی نے بتایا کہ ’’بندروں کے ان مردہ جسموں کو جانچ کے لئے پونا میں واقع نیشنل انسٹیٹیوٹ آف وائرولوجی روانہ کیا گیا تھا، اور اس کے نتائج منفی ظاہر ہوئے ہیں‘‘۔اسی دوران ضلعی افسروں نے عوام سے کہا ہے کہ وہ اگر شدید بخار، آگے کے سر میں درد، ناک، گلا اور مسوڑھوں سے خون جاری ہونے کے علاوہ پاخانے میں خون جیسی علامات دیکھیں تو فوراً اسپتال سے رجوع کریں۔ محکمہ صحت کی طرف سے آنیکل تعلقہ میں جہاں بندروں کی لاشیں دریافت ہوئی تھیں، سروے کا کام انجام دیا جا رہا ہے البتہ اس بات کی وضاحت کر دی گئی ہے کہ دونوں بندروں کی موت زہریلی غذا کی وجہ سے واقع ہوئی تھی۔